EN हिंदी
تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں | شیح شیری
talKH shikwe lab-e-shirin se maza dete hain

غزل

تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں

ظہیرؔ دہلوی

;

تلخ شکوے لب شیریں سے مزا دیتے ہیں
گھول کر شہد میں وہ زہر پلا دیتے ہیں

یوں تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

پردہ اٹھے کہ نہ اٹھے مگر اے پردہ نشیں
آج ہم رسم تکلف کو اٹھا دیتے ہیں

آتے جاتے نہیں کم بخت پیامی ان تک
جھوٹے سچے یوں ہی پیغام سنا دیتے ہیں

وائے تقدیر کہ وہ خط مجھے لکھ لکھ کے ظہیرؔ
میری تقدیر کے لکھے کو مٹا دیتے ہیں