EN हिंदी
شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوں | شیح شیری
shab ke gham din ke azabon se alag rakhta hun

غزل

شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوں

ظفر صہبائی

;

شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوں
ساری تعبیروں کو خوابوں سے الگ رکھتا ہوں

جو پڑھا ہے اسے جینا ہی نہیں ہے ممکن
زندگی کو میں کتابوں سے الگ رکھتا ہوں

اس کی تقدیس پہ دھبہ نہیں لگنے دیتا
دامن دل کو حسابوں سے الگ رکھتا ہوں

یہ عمل ریت کو پانی نہیں بننے دیتا
پیاس کو اپنی سرابوں سے الگ رکھتا ہوں

اس کے در پر نہیں لکھتا میں حساب دنیا
دل کی مسجد کو خرابوں سے الگ رکھتا ہوں