EN हिंदी
سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کا | شیح شیری
saKHt dushwar hai pahlu mein bachana dil ka

غزل

سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کا

ظہیرؔ دہلوی

;

سخت دشوار ہے پہلو میں بچانا دل کا
کچھ نگاہوں سے برستا ہے چرانا دل کا

ہائے دل اور دل زار کے ہم سے برتاؤ
اور پھر تم سے دل زار پہ آنا دل کا

شمع سے زینت پہلو ہے نہ پروانے سے
تم کو منظور ہے ہر طرح جلانا دل کا

ناصحو زلف کے الجھاؤ برے ہوتے ہیں
کچھ ہنسی کھیل سمجھتے ہو چھڑانا دل کا

قہر ڈھائے ترے اظہار تمنا نے ظہیرؔ
حال کہتا ہے کسی سے کوئی دانا دل کا