EN हिंदी
روتے ہیں سن کے کہانی میری | شیح شیری
rote hain sun ke kahani meri

غزل

روتے ہیں سن کے کہانی میری

امداد امام اثرؔ

;

روتے ہیں سن کے کہانی میری
کاش سنتے وہ زبانی میری

کٹ گیا غیر مرے نالوں سے
واہ ری سیف زبانی میری

آئنہ دیکھ کے فرماتے ہیں
کس غضب کی ہے جوانی میری

پھر تمہیں نیند نہیں آنے کی
کہیں سن لی جو کہانی میری

بار کیا پاؤں تری محفل میں
ہے سبک تجھ پہ گرانی میری

ہمہ تن گوش بنے سنتے ہیں
غیر کہتا ہے کہانی میری

یاد آؤں گا جفا کاروں کو
بے نشانی ہے نشانی میری

التجا ایک مقدر دو تھے
غیر کی مانی نہ مانی میری

حشر میں کچھ نہ ہوا مجھ سے سوال
واہ ری ہیچ مدانی میری

اب اٹھیں گے ترے در سے مر کر
کبھی اٹھتی نہیں ٹھانی میری

میرے اشعار فغان دل ہیں
قدر کرتا ہے فغانیؔ میری

خسرو ملک سخن دانی ہوں
داد ہے باج ستانی میری

دل میں پوشیدہ رہے گی کب تک
آتش شوق نہانی میری

تار گیسو سے نظر جا الجھی
دیکھنا ریشہ داوانی میری

دل کی حالت سے خبر دیتی ہے
اثرؔ آشفتہ بیانی میری