EN हिंदी
رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑا | شیح شیری
raqibon ko hamrah lana na chhoDa

غزل

رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑا

ظہیرؔ دہلوی

;

رقیبوں کو ہم راہ لانا نہ چھوڑا
نہ چھوڑا مرا جی جلانا نہ چھوڑا

بلائیں ہی لے لے کے کاٹی شب وصل
ستم گار نے منہ چھپانا نہ چھوڑا

وہ کہتے ہیں لے اب تو سونے دے مجھ کو
کوئی دل میں ارماں پرانا نہ چھوڑا

وہ سینے سے لپٹے رہے گو شب وصل
دل زار نے تلملانا نہ چھوڑا

محبت کے برتاؤ سب چھوڑ بیٹھے
مگر ہاں ستانا جلانا نہ چھوڑا