EN हिंदी
رنج راحت اثر نہ ہو جائے | شیح شیری
ranj rahat-asar na ho jae

غزل

رنج راحت اثر نہ ہو جائے

ظہیرؔ دہلوی

;

رنج راحت اثر نہ ہو جائے
درد کا دل میں گھر نہ ہو جائے

منہ چھپانا پڑے نہ دشمن سے
اے شب غم سحر نہ ہو جائے

کفر منظور ہے مجھے دل سے
وہ مسلمان اگر نہ ہو جائے

ہاتھ الجھا رہے گریباں میں
چاک دامن ادھر نہ ہو جائے

ہے ظہیرؔ ایک مرد سنجیدہ
ہاں جو آشفتہ سر نہ ہو جائے