رنج راحت اثر نہ ہو جائے
درد کا دل میں گھر نہ ہو جائے
منہ چھپانا پڑے نہ دشمن سے
اے شب غم سحر نہ ہو جائے
کفر منظور ہے مجھے دل سے
وہ مسلمان اگر نہ ہو جائے
ہاتھ الجھا رہے گریباں میں
چاک دامن ادھر نہ ہو جائے
ہے ظہیرؔ ایک مرد سنجیدہ
ہاں جو آشفتہ سر نہ ہو جائے
غزل
رنج راحت اثر نہ ہو جائے
ظہیرؔ دہلوی

