EN हिंदी
رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیا | شیح شیری
rang jamne na diya baat ko chalne na diya

غزل

رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیا

ظہیرؔ دہلوی

;

رنگ جمنے نہ دیا بات کو چلنے نہ دیا
کوئی پہلو مرے مطلب کا نکلنے نہ دیا

کچھ سہارا بھی ہمیں روز ازل نے نہ دیا
دل بدلنے نہ دیا بخت بدلنے نہ دیا

کوئی ارماں ترے جلووں نے نکلنے نہ دیا
ہوش آنے نہ دیا غش سے سنبھلنے نہ دیا

چاہتے تھے کہ پیامی کو پتا دیں تیرا
رشک نے نام ترا منہ سے نکلنے نہ دیا

شمع رو میں نے کہا تھا مری ضد سے اس نے
شمع کو بزم میں اپنے کبھی جلنے نہ دیا