EN हिंदी
رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے | شیح شیری
rabta kyun rakhun main dariya se

غزل

رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے

ظفر اقبال ظفر

;

رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سے
پیاس بجھتی ہے میری صحرا سے

ہے مسائل سے اب وہی الجھا
رشتہ جوڑا ہے جس نے دنیا سے

خوشیاں امروز کی وہ پاتا ہے
جو کہ غافل نہیں ہے فردا سے

جس کو حاصل تھیں نعمتیں ساری
اب ہے محروم آب و دانہ سے

ہے خدا کی نظر میں عالی وہی
خوش دلی سے جو ملتا ادنیٰ سے

تھی جسے ساقی سے ظفرؔ نسبت
تشنہ لوٹا وہ بادہ خانہ سے