EN हिंदी
قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے | شیح شیری
qibla-e-dil kaba-e-jaan aur hai

غزل

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے

امیر مینائی

;

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے
سجدہ گاہ اہل عرفاں اور ہے

ہو کے خوش کٹواتے ہیں اپنے گلے
عاشقوں کی عید قرباں اور ہے

روز و شب یاں ایک سی ہے روشنی
دل کے داغوں کا چراغاں اور ہے

خال دکھلاتی ہے پھولوں کی بہار
بلبلو اپنا گلستاں اور ہے

قید میں آرام آزادی وبال
ہم گرفتاروں کا زنداں اور ہے

بحر الفت میں نہیں کشتی کا کام
نوح سے کہہ دو یہ طوفاں اور ہے

کس کو اندیشہ ہے برق و سیل سے
اپنا خرمن کا نگہباں اور ہے

درد وہ دل میں وہ سینہ پر ہے داغ
جس کا مرہم جس کا درماں اور ہے

کعبہ رو محراب ابرو اے امیرؔ
اپنی طاعت اپنا ایماں اور ہے