EN हिंदी
مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں | شیح شیری
mustaqil mahrumiyon par bhi to dil mana nahin

غزل

مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں

احمد فراز

;

مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں
لاکھ سمجھایا کہ اس محفل میں اب جانا نہیں

خود فریبی ہی سہی کیا کیجئے دل کا علاج
تو نظر پھیرے تو ہم سمجھیں کہ پہچانا نہیں

ایک دنیا منتظر ہے اور تیری بزم میں
اس طرح بیٹھے ہیں ہم جیسے کہیں جانا نہیں

جی میں جو آتی ہے کر گزرو کہیں ایسا نہ ہو
کل پشیماں ہوں کہ کیوں دل کا کہا مانا نہیں

زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فرازؔ
اس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانا نہیں