EN हिंदी
مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا | شیح شیری
mera hi ban ke wo but mujhse aashna na hua

غزل

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا

ظہیر کاشمیری

;

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا
وہ بے نیاز تھا اتنا تو کیوں خدا نہ ہوا

شکن ہمیشہ جبیں پر رہے تو عادت ہے
مجھے یقیں ہے وہ مجھ سے کبھی خفا نہ ہوا

تمام عمر تری ہمرہی کا شوق رہا
مگر یہ رنج کہ میں موجۂ صبا نہ ہوا

حجاب حسن سے بڑھتی ہے وار عریانی
یہی سبب ہے میں آزردۂ‌ حیا نہ ہوا

نشاط ہجر کا خوگر بنا دیا ہوتا
جفائے یار سے اتنا بھی حق ادا نہ ہوا

حیات و ہجر کا خود میں نے انتخاب کیا
میں قید کب تھا جو میں قید سے رہا نہ ہوا

دیار درد میں دل نے بہت تلاش کیا
نصیب عشق مگر تیرا نقش پا نہ ہوا

ظہیرؔ سوز دروں بھی عجب کرشمہ ہے
میں دور رہ کے بھی اس سے کبھی جدا نہ ہوا