EN हिंदी
ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اور | شیح شیری
milne ka nahin rizq-e-muqaddar se siwa aur

غزل

ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اور

ظہیرؔ دہلوی

;

ملنے کا نہیں رزق مقدر سے سوا اور
کیا گھر میں خدا اور ہے غربت میں خدا اور

تم سامنے آتے ہو تو چھپتے ہو سوا اور
پردے کی حیا اور ہے آنکھوں کی حیا اور

کچھ آگ لگائے گا نئی شعلۂ رخسار
کچھ رنگ دکھائے گا ترا رنگ حنا اور

انسان وہ کیا جس کو نہ ہو پاس زباں کا
یہ کوئی طریقہ ہے کہا اور کیا اور

آ پہنچے ہیں منزل کی نواہی میں ظہیرؔ اب
ہاں پائے طلب ہاریو ہمت نہ ذرا اور