مقبول عوام ہو گیا میں
گویا کہ تمام ہو گیا میں
احساس کی آگ سے گزر کر
کچھ اور بھی خام ہو گیا میں
دیوار ہوا پہ لکھ گیا وہ
یوں نقش دوام ہو گیا میں
پتھر کے پانو دھو رہا تھا
پانی کا پیام ہو گیا میں
اڑتا ہوا عکس دیکھتے ہی
پھیلا ہوا دام ہو گیا میں
غزل
مقبول عوام ہو گیا میں
ظفر اقبال

