EN हिंदी
میں تمہیں پھول کہوں تم مجھے خوشبو دینا | شیح شیری
main tumhein phul kahun tum mujhe KHushbu dena

غزل

میں تمہیں پھول کہوں تم مجھے خوشبو دینا

ظفر صہبائی

;

میں تمہیں پھول کہوں تم مجھے خوشبو دینا
میرے بازو میں ذرا پیار سے بازو دینا

آرزو چاند کی ہے ظرف سے بڑھ کر لیکن
تیری فیاضی کی توہین ہے جگنو دینا

ہر قدم مجھ کو چراغوں کی ضرورت ہوگی
آپ تو زاد سفر میں مجھے آنسو دینا

صبر تعمیر کی بنیاد ہے ربا میرے
مجھ کو بپھرے ہوئے جذبات پہ قابو دینا

اپنے اعمال کی توصیف میں مصروف ہے وہ
اہل انصاف ذرا اس کو ترازو دینا