میں تمہیں پھول کہوں تم مجھے خوشبو دینا
میرے بازو میں ذرا پیار سے بازو دینا
آرزو چاند کی ہے ظرف سے بڑھ کر لیکن
تیری فیاضی کی توہین ہے جگنو دینا
ہر قدم مجھ کو چراغوں کی ضرورت ہوگی
آپ تو زاد سفر میں مجھے آنسو دینا
صبر تعمیر کی بنیاد ہے ربا میرے
مجھ کو بپھرے ہوئے جذبات پہ قابو دینا
اپنے اعمال کی توصیف میں مصروف ہے وہ
اہل انصاف ذرا اس کو ترازو دینا
غزل
میں تمہیں پھول کہوں تم مجھے خوشبو دینا
ظفر صہبائی

