EN हिंदी
میں ہوں وحشت میں گم میں تیری دنیا میں نہیں رہتا | شیح شیری
main hun wahshat mein gum main teri duniya mein nahin rahta

غزل

میں ہوں وحشت میں گم میں تیری دنیا میں نہیں رہتا

ظہیر کاشمیری

;

میں ہوں وحشت میں گم میں تیری دنیا میں نہیں رہتا
بگولا رقص میں رہتا ہے صحرا میں نہیں رہتا

بڑی مدت سے تیرا حسن دل بن کر دھڑکتا ہے
بڑی مدت سے دل تیری تمنا میں نہیں رہتا

یہ پانی ہے مگر مژگاں کی شاخوں پر سلگتا ہے
یہ موتی ہے مگر دامان دریا میں نہیں رہتا

وہ جلوہ جو سکوت بزم یکتائی میں رہتا ہے
وہ جلوہ شورش پنہاں و پیدا میں نہیں رہتا

نہ کوئی موج رعنائی نہ کوئی سیل زیبائی
کوئی طوفاں بھی اب چشم تماشا میں نہیں رہتا

عجب کیا لا مکاں کو اک نیا زنداں سمجھ بیٹھے
یہ دیوانہ حد امروز و فردا میں نہیں رہتا

ظہیرؔ اک رشتۂ وحشت لیے پھرتا ہے مجنوں کو
وگرنہ کوئی اپنے آپ صحرا میں نہیں رہتا