EN हिंदी
لب پہ تکریم تمنائے سبک پائی ہے | شیح شیری
lab pe takrim-e-tamanna-e-subuk-pai hai

غزل

لب پہ تکریم تمنائے سبک پائی ہے

ظفر اقبال

;

لب پہ تکریم تمنائے سبک پائی ہے
پس دیوار وہی سلسلہ پیمائی ہے

تختۂ لالہ کی ہر شمع فروزاں جانے
کس بھلاوے میں مجھے دیکھ کے لہرائی ہے

خاک در خاک چھپی ہے مری آنکھوں کی چمک
جس خرابے میں تری انجمن آرائی ہے

اپنے ہی پاؤں کی آواز سے ڈر جاتا ہوں
میں ہوں اور رہ گزر بیشۂ تنہائی ہے

پھر سر صبح کسی درد کے در وا کرنے
دھان کے کھیت سے اک موج ہوا آئی ہے