EN हिंदी
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں | شیح شیری
KHudi wo bahr hai jis ka koi kinara nahin

غزل

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

علامہ اقبال

;

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں
زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں

خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں
مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں

ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے
کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں

یہیں بہشت بھی ہے، حور و جبرئیل بھی ہے
تری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں

مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا
وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں

غضب ہے عین کرم میں بخیل ہے فطرت
کہ لعل ناب میں آتش تو ہے شرارہ نہیں