EN हिंदी
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے | شیح شیری
KHuda hum ko aisi KHudai na de

غزل

خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے

بشیر بدر

;

خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے

خطاوار سمجھے گی دنیا تجھے
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے

ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

غلامی کو برکت سمجھنے لگیں
اسیروں کو ایسی رہائی نہ دے

خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دکھائی نہ دے