EN हिंदी
خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے | شیح شیری
KHayalistan-e-hasti mein agar gham hai KHushi bhi hai

غزل

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے

اختر شیرانی

;

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے
کبھی آنکھوں میں آنسو ہیں کبھی لب پر ہنسی بھی ہے

انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا
اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے

یوں ہی تکمیل ہوگی حشر تک تصویر ہستی کی
ہر اک تکمیل آخر میں پیام نیستی بھی ہے

یہ وہ ساغر ہے صہبائے خودی سے پر نہیں ہوتا
ہمارے جام ہستی میں سرشک بے خودی بھی ہے