EN हिंदी
کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ | شیح شیری
kashti chala raha hai magar kis ada ke sath

غزل

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

عبد الحمید عدم

;

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ
ہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نا خدا کے ساتھ

دل کی طلب پڑی ہے تو آیا ہے یاد اب
وہ تو چلا گیا تھا کسی دل ربا کے ساتھ

جب سے چلی ہے آدم و یزداں کی داستاں
ہر با وفا کا ربط ہے اک بے وفا کے ساتھ

مہمان میزباں ہی کو بہکا کے لے اڑا
خوشبوئے گل بھی گھوم رہی ہے صبا کے ساتھ

پیر مغاں سے ہم کو کوئی بیر تو نہیں
تھوڑا سا اختلاف ہے مرد خدا کے ساتھ

شیخ اور بہشت کتنے تعجب کی بات ہے
یارب یہ ظلم خلد کی آب و ہوا کے ساتھ

پڑھتا نماز میں بھی ہوں پر اتفاق سے
اٹھتا ہوں نصف رات کو دل کی صدا کے ساتھ

محشر کا خیر کچھ بھی نتیجہ ہو اے عدمؔ
کچھ گفتگو تو کھل کے کریں گے خدا کے ساتھ