EN हिंदी
کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی | شیح شیری
kahin chand rahon mein kho gaya kahin chandni bhi bhaTak gai

غزل

کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی

بشیر بدر

;

کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی
میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا میری رات کیسے چمک گئی

مری داستاں کا عروج تھا تری نرم پلکوں کی چھاؤں میں
مرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تری آنکھ کیسے جھپک گئی

بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

ترے ہاتھ سے میرے ہونٹ تک وہی انتظار کی پیاس ہے
مرے نام کی جو شراب تھی کہیں راستے میں چھلک گئی

تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تری یاد شاخ گلاب ہے جو ہوا چلی تو لچک گئی