EN हिंदी
جہاں لمحۂ شام بکھیر دیا | شیح شیری
jahan lamha-e-sham bikher diya

غزل

جہاں لمحۂ شام بکھیر دیا

ظفر اقبال

;

جہاں لمحۂ شام بکھیر دیا
وہیں اک پیغام بکھیر دیا

خود اوس کے قدموں میں اپنا
سب پختہ و خام بکھیر دیا

چالاک پرندہ تھا وہ بھی
ہم نے بھی دام بکھیر دیا

جتنی تکلیف اکٹھا کی
اتنا آرام بکھیر دیا

دروازہ کھولا جلدی سے
اور سارا کام بکھیر دیا