EN हिंदी
جب ادھورے چاند کی پرچھائیں پانی پر پڑی | شیح شیری
jab adhure chand ki parchhain pani par paDi

غزل

جب ادھورے چاند کی پرچھائیں پانی پر پڑی

ظفر صہبائی

;

جب ادھورے چاند کی پرچھائیں پانی پر پڑی
روشنی اک نامکمل سی کہانی پر پڑی

دھوپ نے کچے پھلوں میں درد کا رس بھر دیا
عشق کی افتاد نا پختہ جوانی پر پڑی

گرد خاموشی کی سب میرے دہن سے دھل گئی
اس قدر بارش سخن کی بے زبانی پر پڑی

اس نے اپنے قصر سے کب جھانک کر دیکھا ہمیں
کب نظر اس کی ہماری بے مکانی پر پڑی

اصل سونے پر تھا جتنا بھی ملمع جل گیا
دھوپ اس شدت کی الفاظ و معانی پر پڑی

ترک کیجے اب دلوں میں نرم گوشوں کی تلاش
بے حسی کی خاک حرف مہربانی پر پڑی

زخم دل اس کی تواضع میں نمک داں بن گیا
یہ مصیبت بھی ہماری میزبانی پر پڑی

اپنے ہاتھوں ٹوٹنے کا تجربہ تو ہو گیا
چوٹ بے شک سخت تھی جو خوش گمانی پر پڑی