EN हिंदी
عشق جب تک نہ آس پاس رہا | شیح شیری
ishq jab tak na aas-pas raha

غزل

عشق جب تک نہ آس پاس رہا

ظہیر کاشمیری

;

عشق جب تک نہ آس پاس رہا
حسن تنہا رہا اداس رہا

اک حسیں واہمہ حسیں دھوکا
مدتوں مرکز قیاس رہا

عشق کو اجنبی سمجھ کے ملا
حسن کتنا ادا شناس رہا

فصل گل میں ہجوم گل کی جگہ
ہر طرف اک ہجوم یاس رہا

کس کا دامن رہا ہے بے پیوند
کون آسودۂ لباس رہا

وہ جسے تیرا مستقل غم ہے
تیری محفل میں بھی اداس رہا

ہائے وہ خندۂ خفی کہ ظہیرؔ
دل پشیمان التماس رہا