EN हिंदी
اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے | شیح شیری
ise saman-e-safar jaan ye jugnu rakh le

غزل

اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے

راحتؔ اندوری

;

اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے
راہ میں تیرگی ہوگی مرے آنسو رکھ لے

تو جو چاہے تو ترا جھوٹ بھی بک سکتا ہے
شرط اتنی ہے کہ سونے کی ترازو رکھ لے

وہ کوئی جسم نہیں ہے کہ اسے چھو بھی سکیں
ہاں اگر نام ہی رکھنا ہے تو خوشبو رکھ لے

تجھ کو ان دیکھی بلندی میں سفر کرنا ہے
احتیاطاً مری ہمت مرے بازو رکھ لے

مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے
مرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے