EN हिंदी
اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی | شیح شیری
is raaz ko kya jaanen sahil ke tamashai

غزل

اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی

مظفر رزمی

;

اس راز کو کیا جانیں ساحل کے تماشائی
ہم ڈوب کے سمجھے ہیں دریا تری گہرائی

جاگ اے مرے ہمسایہ خوابوں کے تسلسل سے
دیوار سے آنگن میں اب دھوپ اتر آئی

چلتے ہوئے بادل کے سائے کے تعاقب میں
یہ تشنہ لبی مجھ کو صحراؤں میں لے آئی

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

کیا سانحہ یاد آیا رزمیؔ کی تباہی کا
کیوں آپ کی نازک سی آنکھوں میں نمی آئی