EN हिंदी
اس اندھیرے میں جو تھوڑی روشنی موجود ہے | شیح شیری
is andhere mein jo thoDi raushni maujud hai

غزل

اس اندھیرے میں جو تھوڑی روشنی موجود ہے

آفتاب حسین

;

اس اندھیرے میں جو تھوڑی روشنی موجود ہے
دل میں اس کی یاد شاید آج بھی موجود ہے

وقت کی وحشی ہوا کیا کیا اڑا کر لے گئی
یہ بھی کیا کم ہے کہ کچھ اس کی کمی موجود ہے

کون جانے آنے والے پل میں یہ بھی ہو نہ ہو
دھوپ کے ہم راہ یہ جو چھانو سی موجود ہے