EN हिंदी
حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے | شیح شیری
hadsa wo jo abhi parda-e-aflak mein hai

غزل

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے

علامہ اقبال

;

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
عکس اس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہے

نہ ستارے میں ہے نے گردش افلاک میں ہے
تیری تقدیر مرے نالۂ بیباک میں ہے

یا مری آہ میں ہی کوئی شرر زندہ نہیں
یا ذرا نم ابھی تیرے خس و خاشاک میں ہے

کیا عجب میری نوا ہائے سحر گاہی سے
زندہ ہو جائے وہ آتش جو تری خاک میں ہے

توڑ ڈالے گی یہی خاک طلسم شب و روز
گرچہ الجھی ہوئی تقدیر کے پیچاک میں ہے