EN हिंदी
گرم فغاں ہے جرس اٹھ کہ گیا قافلہ | شیح شیری
garm-e-fughan hai jaras uTh ki gaya qafila

غزل

گرم فغاں ہے جرس اٹھ کہ گیا قافلہ

علامہ اقبال

;

گرم فغاں ہے جرس اٹھ کہ گیا قافلہ
وائے وہ رہ رو کہ ہے منتظر راحلہ

تیری طبیعت ہے اور تیرا زمانہ ہے اور
تیرے موافق نہیں خانقہی سلسلہ

دل ہو غلام خرد یا کہ امام خرد
سالک رہ ہوشیار سخت ہے یہ مرحلہ

اس کی خودی ہے ابھی شام و سحر میں اسیر
گردش دوراں کا ہے جس کی زباں پر گلہ

تیرے نفس سے ہوئی آتش گل تیز تر
مرغ چمن ہے یہی تیری نوا کا صلہ