EN हिंदी
غم ہے وہیں پہ غم کا سہارا گزر گیا | شیح شیری
gham hai wahin pa gham ka sahaara guzar gaya

غزل

غم ہے وہیں پہ غم کا سہارا گزر گیا

عدیم ہاشمی

;

غم ہے وہیں پہ غم کا سہارا گزر گیا
دریا ٹھہر گیا ہے کنارہ گزر گیا

بس یہ سفر حیات کا اتنی سی زندگی
کیوں اتنی جلدی راستہ سارا گزر گیا

وہ جس کی روشنی سے چمکنا تھا بخت کو
کس آسمان سے وہ ستارہ گزر گیا

کیا ذکر اس گھڑی کا کڑی تھی کہ سہل تھی
جو وقت جس طرح بھی گزارا گزر گیا

تفہیم دوستی میں بڑی بھول ہو گئی
پھر دور سے ہی دوست ہمارا گزر گیا

کر کے یقین پھر سے کہ میں مشکلوں میں ہوں
ٹھہرا نہیں وہ شخص دوبارہ گزر گیا

اک وقت خوش نصیب سا آیا تو تھا عدیمؔ
مدھم سی اک صدا میں پکارا گزر گیا

مجرم ہوا تھا آنکھ جھپکنے کا میں عدیمؔ
جو ذہن میں بسا تھا نظارہ گزر گیا