EN हिंदी
ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیں | شیح شیری
ek jumbish mein kaT bhi sakte hain

غزل

ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیں

ظفر اقبال ظفر

;

ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیں
دھار پر رکھے سب کے چہرے ہیں

ریت کا ہم لباس پہنے ہیں
اور ہوا کے سفر پہ نکلے ہیں

میں نے اپنی زباں تو رکھ دی ہے
دیکھوں پتھر یہ نم بھی ہوتے ہیں

ایسے لوگوں سے ملنا جلنا ہے
سانپ جو آستیں میں پالے ہیں

کوئی پرساں نہیں غموں کا ظفرؔ
دیکھنے میں ہزار رشتے ہیں