EN हिंदी
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے | شیح شیری
dushmanon ne jo dushmani ki hai

غزل

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

حبیب جالب

;

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاب
اور ہم نے تو بات بھی کی ہے

مطمئن ہے ضمیر تو اپنا
بات ساری ضمیر ہی کی ہے

اپنی تو داستاں ہے بس اتنی
غم اٹھائے ہیں شاعری کی ہے

اب نظر میں نہیں ہے ایک ہی پھول
فکر ہم کو کلی کلی کی ہے

پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو
جستجو آج بھی اسی کی ہے

جب مہ و مہر بجھ گئے جالبؔ
ہم نے اشکوں سے روشنی کی ہے