EN हिंदी
دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے | شیح شیری
dil ko tarz-e-nigah-e-yar jatate aae

غزل

دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے

امیر مینائی

;

دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے
تیر بھی آئے تو بے پر کی اڑاتے آئے

بادشاہوں کا ہے دربار در پیر مغاں
سیکڑوں جاتے گئے سیکڑوں آتے آئے

چھپ کے بھی آئے مرے گھر تو وو دربانوں کو
اپنی پازیب کی جھنکار سناتے آئے

روز محشر جو بلائے گئے دیوانۂ زلف
بیڑیاں پہنے ہوئے شور مچاتے آئے

کیا کہیں گے کوئی محشر میں جو پوچھے گا امیرؔ
کیوں نہ بگڑی ہوئی باتوں کو بناتے آئے