EN हिंदी
دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئے | شیح شیری
dariya guzar gae hain samundar guzar gae

غزل

دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئے

ظفر اقبال ظفر

;

دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئے
پیاسا رہا میں کتنے ہی منظر گزر گئے

اس جیسا دوسرا نہ سمایا نگاہ میں
کتنے حسین آنکھوں سے پیکر گزر گئے

کچھ تیر میرے سینے میں پیوست ہو گئے
کچھ تیر میرے سینے سے باہر گزر گئے

آنسو بیان کرنے سے قاصر رہے جنہیں
کیا کیا نہ زخم ذات کے اندر گزر گئے

اک چوٹ دل پہ لگتی رہی ہے تمام شب
دل کی زمیں سے یادوں کے لشکر گزر گئے

وہ ضبط تھا کہ آہ نہ نکلی زبان سے
دل پہ ہمارے کتنے ہی خنجر گزر گئے

منزل تھی وہ کہ ہوتی گئی دور ہی ظفرؔ
کتنے ہی رہ میں میل کے پتھر گزر گئے