EN हिंदी
درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے | شیح شیری
dard hote hain kai dil mein chhupane ke liye

غزل

درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے

عدیم ہاشمی

;

درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے
سب کے سب آنسو نہیں ہوتے بہانے کے لیے

عمر تنہا کاٹ دی وعدہ نبھانے کے لیے
عہد باندھا تھا کسی نے آزمانے کے لیے

یہ قفس ہے گھر کی زیبائش بڑھانے کے لیے
یہ پرندے تو نہیں ہیں آشیانے کے لیے

کچھ دیے دیوار پر رکھنے ہیں وقت انتظار
کچھ دیے لایا ہوں پلکوں پر جلانے کے لیے

وہ بظاہر تو ملا تھا ایک لمحے کو عدیمؔ
عمر ساری چاہئے اس کو بھلانے کے لیے

لوگ زیر خاک بھی تو ڈوب جاتے ہیں عدیمؔ
اک سمندر ہی نہیں ہے ڈوب جانے کے لیے

تو پس خندہ لبی آہوں کی آوازیں تو سن
یہ ہنسی تو آئی ہے آنسو چھپانے کے لیے

کوئی غم ہو کوئی دکھ ہو درد کوئی ہو عدیمؔ
مسکرانا پڑ ہی جاتا ہے زمانے کے لیے