EN हिंदी
درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے | شیح شیری
dard baDh kar dawa na ho jae

غزل

درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے

علیم اختر

;

درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے
زندگی بے مزا نہ ہو جائے

ان تلون مزاجیوں کا شکار
کوئی میرے سوا نہ ہو جائے

لذت انتظار ہی نہ رہے
کہیں وعدہ وفا نہ ہو جائے

تیری رفتار اے معاذ اللہ
حشر کوئی بپا نہ ہو جائے

کامیابی ہی کامیابی ہو
تو یہ بندہ خدا نہ ہو جائے

میری بیتابیوں سے گھبرا کر
کوئی مجھ سے خفا نہ ہو جائے

کچھ تو اندازۂ جفا کیجئے
دل ستم آشنا نہ ہو جائے

کہیں ناکامئ اثر آخر
مدعائے دعا نہ ہو جائے

وہ نگاہیں نہ پھیر لیں اخترؔ
عشق بے آسرا نہ ہو جائے