EN हिंदी
بکھر بکھر گئے الفاظ سے ادا نہ ہوئے | شیح شیری
bikhar bikhar gae alfaz se ada na hue

غزل

بکھر بکھر گئے الفاظ سے ادا نہ ہوئے

ظفر اقبال

;

بکھر بکھر گئے الفاظ سے ادا نہ ہوئے
یہ زمزمے جو کسی درد کی دوا نہ ہوئے

سفر میں گوش بر آواز تھا ہر اک ذرہ
کھلا تھا سامنے صحرا ہمیں صدا نہ ہوئے

نئی ہوا میں مہک ہے پرانے پتوں کی
جو خاک ہو گئے پر شاخ سے جدا نہ ہوئے

ہوا کے ساتھ کئی اشک سے اڑے تو سہی
کسی تو رتیلی مٹی کا آب و دانہ ہوئے

غزل میں تھے بہت آزادہ رو ظفرؔ لیکن
تلازمات کی زنجیر سے رہا نہ ہوئے