EN हिंदी
بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہم | شیح شیری
bhaDka rahe hain aag lab-e-naghmagar se hum

غزل

بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہم

ساحر لدھیانوی

;

بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہم
خاموش کیا رہیں گے زمانے کے ڈر سے ہم

کچھ اور بڑھ گئے جو اندھیرے تو کیا ہوا
مایوس تو نہیں ہیں طلوع سحر سے ہم

لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے
کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم

مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کر سکے
کچھ خار کم تو کر گئے گزرے جدھر سے ہم