EN हिंदी
بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا | شیح شیری
bhaga to bahut tha maut se main kam-baKHt ne lekin aan liya

غزل

بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا

شاد عظیم آبادی

;

بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا
ان لاکھوں ہی مرنے والوں میں کیا جلد مجھے پہچان لیا

جب قتل ہوا میں تڑپا بھی چھینٹیں بھی اڑائیں مان لیا
الزام خود اس پر کیا یہ نہیں دامن کو نہ کیوں گردان لیا

تو عام فریبی مجھ سے نہ کر ہم مرد ہیں سن لے اے دنیا
جو منہ سے کہا وہ کر گزرے جو ٹھان لیا وہ ٹھان لیا

اقسام تھے یاس و حسرت کے اصناف امید بے حد کے
جب چلنے لگے ہم دنیا سے ساتھ اپنے بہت سامان لیا

جس ہاتھ سے مجھ کو قتل کیا اس ہاتھ کا کلمہ پڑھوایا
لی جان تو خیر احسان کیا قاتل نے مگر ایمان لیا

مے خانہ ہے جائے عیش و طرب یاں بیٹھ کے رونا کیا معنی
کیا مفت کا اپنے سر تو نے اے دیدۂ تر طوفان لیا

اس گھر میں کرم جب تو نے کیا کچھ دیر ٹھہر اے تیر نظر
بوسہ ترے قدموں کا دل نے کس شوق سے اے مہمان لیا

آرام طلب ہونے کا گماں جویا پہ ترے لاحول ولا
تب پاؤں کو توڑے بیٹھا ہوں جب دشت و جبل کو چھان لیا

جس بھیس میں تو ہو کیا پروا آئندہ نہ کھائے گی دھوکا
اے طالب دنیا دنیا نے ہر طرح تجھے پہچان لیا

تھی دھار رگ گردن پہ مری سینہ بھی دبا تھا قدموں سے
خنجر کا ترے بوسہ ہم نے منہ پھیر کے تا‌ امکان لیا

اے شادؔ عبث ہے اس کا گلا وہ ہجو کرے یا تجھ سے پھرے
تا حشر رہا شاگرد ترا استاد تجھے جب مان لیا