EN हिंदी
باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیا | شیح شیری
baham jo husn o ishq mein yarana ho gaya

غزل

باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیا

احسن مارہروی

;

باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیا
کوئی پری بنا کوئی دیوانہ ہو گیا

اتنی سی بات پر کہ ہوئی شمع بے حجاب
تیار جان دینے کو پروانہ ہو گیا

تنگ آ گیا ہوں وسعت مفہوم عشق سے
نکلا جو حرف منہ سے وہ افسانہ ہو گیا

ہر دل میں یاد بن کے چھپے ہیں بتان عشق
اللہ تیرا گھر بھی صنم خانہ ہو گیا

فارغ تکلفات سے ہیں رند بے ریا
چلو ہی ان کے واسطے پیمانہ ہو گیا

تفصیل اپنے جور و ستم کی نہ پوچھئے
کیا کیا نہ آپ نے کیا کیا کیا نہ ہو گیا

دیکھی ہے جب سے آنکھ کسی کی پھری ہوئی
عالم مری نگاہ میں بیگانہ ہو گیا

خوش ہوں کہ ہو رہا ہے یہ ارشاد لے کے دل
احسنؔ قبول تیرا یہ نذرانہ ہو گیا