EN हिंदी
اپنی مٹی کو سرافراز نہیں کر سکتے | شیح شیری
apni miTTi ko sar-afraaz nahin kar sakte

غزل

اپنی مٹی کو سرافراز نہیں کر سکتے

رئیس فروغ

;

اپنی مٹی کو سرافراز نہیں کر سکتے
یہ در و بام تو پرواز نہیں کر سکتے

عالم خواہش و ترغیب میں رہتے ہیں مگر
تیری چاہت کو سبو تاژ نہیں کر سکتے

حسن کو حسن بنانے میں مرا ہاتھ بھی ہے
آپ مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتے

شہر میں ایک ذرا سے کسی گھر کی خاطر
اپنے صحراؤں کو ناراض نہیں کر سکتے

عشق وہ کار مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے