EN हिंदी
دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھا | شیح شیری
dekha jo marg to marna ziyan na tha

غزل

دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھا

انور دہلوی

;

دیکھا جو مرگ تو مرنا زیاں نہ تھا
فانی کے بدلے ملک بقا کچھ گراں نہ تھا

شب کو بغل میں تھا بھی تو وہ دلستاں نہ تھا
شوخی یہ کہہ رہی تھی کہ یاں تھا وہاں نہ تھا

بے وجہ منہ چھپانے سے جو تھا نہاں نہ تھا
پر خیر تھی کچھ اس میں کہ میں بد گمان نہ تھا

یہ تو نہیں کہ اب کے وہ مطلق وہاں نہ تھا
لیکن سوال وصل یہ کہنے کو ہاں نہ تھا

وہ بت ہی کہوں زمیں پہ جو بلہ گراں نہ تھا
ہم سنگ لیکن اس کا مگر آسماں نہ تھا

حسرت کے صدقے آنکھ کے ملتے ہی کھل گیا
وہ کچھ کہ ممکنات سے جس کا بیاں نہ تھا

نالہ جو اپنا پایۂ تاثیر سے گرا
اتنا سبک ہوا کہ میں اتنا گراں نہ تھا

تھے بزم میں وہ غنچۂ افسردہ شرم سے
کیوں کر کہوں بہار میں رنگ خزاں نہ تھا

کیسی حیا کہاں کی وفا پاس خلق کیا
ہاں یہ سہی کہ آپ کو آنا یہاں نہ تھا

سب کام اپنی ایک نگہ پر ہیں منحصر
گویا مرے لیے تو بنا آسماں نہ تھا

کیوں مجھ پہ تیز کی نگہ قہر کی چھری
میں دور چرخ میں کوئی سنگ فساں نہ تھا

کچھ اپنے دل کے ولولے کچھ زاہدوں کی ضد
سر پھوڑنے کو ورنہ وہی آستاں نہ تھا

آئینہ کو وہ دیکھتے ہیں ان کی شکل ہم
تھا ہم کو وہ گماں کہ انہیں وہ گماں نہ تھا

انکار محض محض غلط میزباں سہی
مانا کہ بزم غیر میں تو میہماں نہ تھا

دشمن حریف راہ وفا ہے خدا کی شاں
وہاں جس پہ تھا یقین مجھے اس کا گماں نہ تھا

حیران ہوں حجاب جدائی اٹھا نہ کیوں
وہ نازنیں تھے میں تو کوئی ناتواں نہ تھا

اب آسماں بن کے مرا مدعی بنا
تھی لب پہ کچھ فغاں تو فلک کا نشاں نہ تھا

ٹپکا زمیں پہ گر فلک پیر کو تو کیا
پھر یہ کہیں گے سب کہ وہ کچھ نوجواں نہ تھا

کچھ جذب دل میں جان کے سمجھے تھے ان کو پاس
ایک وہم سے یقین پہ کیا کچھ گماں نہ تھا

گردوں سے آج ہے فلک ظلم پھٹ پڑا
سینہ میں آج ہی دم آتش فشاں نہ تھا

حسن جہاں فروز سے جس جا نہ تھے وہ بت
میں بے نشانیوں سے جہاں تھا وہاں نہ تھا

یوں خامشی سے خوش کہ وہ تصویر تھے مگر
یوں بات سے بتنگ کہ گویاں وہاں نہ تھا

بھاری ہوئے یہاں تو سبک ہوگی زندگی
وہاں تو نظر سے ہم کو گرانا گراں نہ تھا

تھے بے خودی میں پاس وہ ہوش آئی تو گئے
چوکے غضب ہی ہوش میں آنا یہاں نہ تھا

آنا یہ ان کا صبح کو میری اجل کے ساتھ
یعنی کہ نالۂ شب غم رائیگاں نہ تھا

تھا کچھ شکست دل سے مرا امتحان صبر
وہاں اپنی نازکی کا فقط امتحاں نہ تھا

بے مہر یوں نہ ہو کہ یہ خوش ہو کے میں کہوں
شاید کہ تو رقیب پہ بھی مہرباں نہ تھا

میں اور روز وصل عدو اور شب فراق
یہاں آسماں نہ تھا کہ وہاں آسماں نہ تھا

فرہاد کوہ کن تھا یہ اک ہلکی بات ہے
عاشق تھا بے ستوں کا اٹھانا گراں نہ تھا

شب مجھ سے آنکھ ملتی رہی دل رقیب سے
یہاں یوں ستم رہا کہ کسی پر عیاں نہ تھا

تھا دوستوں کا یار طریق اور دلوں سے دور
کیا تھا جو میں غبار پس کارواں نہ تھا

حیران ہوں کہ دم میں ترے کیونکہ آ گیا
میں ورنہ اپنے دل میں کہاں سے کہاں نہ تھا

مرتا ہوں کہ کیوں نہ رہا دل میں تیر یار
آرام جاں تھا کوئی آزار جاں نہ تھا

دیکھا نہ آنکھ اٹھا کے مجھے نازکی سے جھوٹ
ایسا تو کچھ نگاہ کا اٹھانا گراں نہ تھا

خالی در ان کا پایا تو دل وہم سے رکا
تھا پاسباں میں آپ جو وہاں پاسباں نہ تھا

کس بے دلی سے ہجر میں کی ہم نے زندگی
دل تھا کہاں کہ یہاں وہ بت دلستاں نہ تھا

مٹ جانا اپنا اس کا رہا سب کے دل پہ نقش
ایک یہ بھی تھا نشاں کہ مرا کچھ نشاں نہ تھا

کچھ وہم سد راہ ستم تھا کہ وقت ذبح
میرے گلو پہ خنجر قاتل رواں نہ تھا

انورؔ نے بدلے جان کے لی جنس درد دل
اور اس پہ ناز یہ کہ یہ سودا گراں نہ تھا