EN हिंदी
ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر | شیح شیری
aisa bhi nahin us se mila de koi aa kar

غزل

ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر

عدیم ہاشمی

;

ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر
کیسا ہے وہ اتنا تو بتا دے کوئی آ کر

یہ بھی تو کسی ماں کا دلارا کوئی ہوگا
اس قبر پہ بھی پھول چڑھا دے کوئی آ کر

سوکھی ہیں بڑی دیر سے پلکوں کی زبانیں
بس آج تو جی بھر کے رلا دے کوئی آ کر

برسوں کی دعا پھر نہ کہیں خاک میں مل جائے
یہ ابر بھی آندھی نہ اڑا دے کوئی آ کر

یہ کوہ یہ سبزہ یہ مچلتی ہوئی ندیاں
مر جاؤں جو منزل کا پتا دے کوئی آ کر

ہر گھر پہ ہے آواز ہر اک در پہ ہے دستک
بیٹھا ہوں کہ مجھ کو بھی صدا دے کوئی آ کر

اس خواہش ناکام کا خوں بھی مرے سر ہے
زندہ ہوں کہ اس کی بھی سزا دے کوئی آ کر