EN हिंदी
آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائے | شیح شیری
aao koi tafrih ka saman kiya jae

غزل

آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائے

قتیل شفائی

;

آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائے
پھر سے کسی واعظ کو پریشان کیا جائے

بے لغزش پا مست ہوں ان آنکھوں سے پی کر
یوں محتسب شہر کو حیران کیا جائے

ہر شے سے مقدس ہے خیالات کا رشتہ
کیوں مصلحتوں پر اسے قربان کیا جائے

مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

وہ شخص جو دیوانوں کی عزت نہیں کرتا
اس شخص کا بھی چاک گریبان کیا جائے

پہلے بھی قتیلؔ آنکھوں نے کھائے کئی دھوکے
اب اور نہ بینائی کا نقصان کیا جائے