EN हिंदी
آدمی وقت پر گیا ہوگا | شیح شیری
aadmi waqt par gaya hoga

غزل

آدمی وقت پر گیا ہوگا

جون ایلیا

;

آدمی وقت پر گیا ہوگا
وقت پہلے گزر گیا ہوگا

وہ ہماری طرف نہ دیکھ کے بھی
کوئی احسان دھر گیا ہوگا

خود سے مایوس ہو کے بیٹھا ہوں
آج ہر شخص مر گیا ہوگا

شام تیرے دیار میں آخر
کوئی تو اپنے گھر گیا ہوگا

مرہم ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا