EN हिंदी
مہشر شیاری | شیح شیری

مہشر

4 شیر

وہ دنیا تھی جہاں تم روک لیتے تھے زباں میری
یہ محشر ہے یہاں سننی پڑے گی داستاں میری

آنند نرائن ملا




دیکھیں محشر میں ان سے کیا ٹھہرے
تھے وہی بت وہی خدا ٹھہرے

آرزو لکھنوی




بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ
وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے

داغؔ دہلوی




ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگا
سب اس کو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہوگا

on judgement day, let me say, I know how it will be
all eyes would be upon her and hers will be on me

جگر مراد آبادی