EN हिंदी
انجم شیاری | شیح شیری

انجم

4 شیر

انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور

آنس معین




نہ جانے کون سی منزل پہ عشق آ پہونچا
دعا بھی کام نہ آئے کوئی دوا نہ لگے

عزیز الرحمن شہید فتح پوری




انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کی
مرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی

نشور واحدی




روتے جو آئے تھے رلا کے گئے
ابتدا انتہا کو روتے ہیں

ریاضؔ خیرآبادی