کنارہ کر نہ اے دنیا مری ہست زبونی سے
کوئی دن میں مرا روشن ستارہ ہونے والا ہے
طارق نعیم
زمین اتنی نہیں ہے کہ پاؤں رکھ پائیں
دل خراب کی ضد ہے کہ گھر بنایا جائے
طارق نعیم
یہ ویرانی سی یوں ہی تو نہیں رہتی ہے آنکھوں میں
مرے دل ہی سے کوئی جادۂ وحشت نکلتا ہے
طارق نعیم
یہ خیال تھا کبھی خواب میں تجھے دیکھتے
کبھی زندگی کی کتاب میں تجھے دیکھتے
طارق نعیم
وہ آئینہ ہے تو حیرت کسی جمال کی ہو
جو سنگ ہے تو کہیں رہ گزر میں رکھا جائے
طارق نعیم
اٹھا اٹھا کے ترے ناز اے غم دنیا
خود آپ ہی تری عادت خراب کی ہم نے
طارق نعیم
ترے خیال کی لو ہی سفر میں کام آئی
مرے چراغ تو لگتا تھا روئے اب روئے
طارق نعیم
رات رو رو کے گزاری ہے چراغوں کی طرح
تب کہیں حرف میں تاثیر نظر آئی ہے
طارق نعیم
کوئی کب دیوار بنا ہے میرے سفر میں
خود ہی اپنے رستے کی دیوار رہا ہوں
طارق نعیم

