EN हिंदी
روش صدیقی شیاری | شیح شیری

روش صدیقی شیر

18 شیر

کوہ سنگین حقائق تھا جہاں
حسن کا خواب تراشا ہم نے

روش صدیقی




زندگی محو خود آرائی تھی
آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا ہم نے

روش صدیقی




وہ شخص اپنی جگہ ہے مرقع تہذیب
یہ اور بات ہے کہ قاتل اسی کا نام بھی ہے

روش صدیقی




وہ کہاں درد جو دل میں ترے محدود رہا
درد وہ ہے جو دل کون و مکاں تک پہنچے

روش صدیقی




اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آئی

روش صدیقی




تلخئ زندگی ارے توبہ
زہر میں زہر کا مزا نہ ملا

روش صدیقی




سخت جان لیوا ہے سادگی محبت کی
زہر کی کسوٹی پر زندگی کو کستی ہے

روش صدیقی




نقاب شب میں چھپ کر کس کی یاد آئی سمجھتے ہیں
اشارے ہم ترے اے شمع تنہائی سمجھتے ہیں

روش صدیقی




لڑکھڑانا بھی ہے تکمیل سفر کی تمہید
ہم کو منزل کا نشاں لغزش پیہم سے ملا

روش صدیقی