قیمتی شے تھی ترا ہجر اٹھائے رکھا
ورنہ سیلاب میں سامان کہاں دیکھتے ہیں
رانا عامر لیاقت
مانوس روشنی ہوئی میرے مکان سے
وہ جسم جب نکل گیا ریشم کے تھان سے
رانا عامر لیاقت
میں ہاؤ ہو پہ کہانی کو ختم کر دوں گا
یہ عام بات نہیں ہے، اسے خبر لیا جائے
رانا عامر لیاقت
میں جانتا ہوں محبت میں کیا نہیں کرنا
یہ وہ جگہ ہے جہاں قیس بھی پھسلتا ہے
رانا عامر لیاقت
میں اس کی نظروں کا کچھ اس لئے بھی ہوں قائل
وہ جس کو چاہے اسے دیکھنا سکھاتا ہے
رانا عامر لیاقت
محبتوں کے لئے عمر کم ہے سو وہ شخص
سبھی شکایتیں کچھ دن ادھر ادھر کر دے
رانا عامر لیاقت
نکتہ یہی ازل سے پڑھایا گیا ہمیں
حوا برائے حسن ہے آدم برائے عشق
رانا عامر لیاقت
اسے پتا ہے کہاں ہاتھ تھامنا ہے مرا
اسے پتا ہے کہاں پیڑ سوکھ جاتا ہے
رانا عامر لیاقت
زندگی دیکھ تری خاص رعایت ہوگی
اک محبت ہے مرے پاس اگر کرنے دے
رانا عامر لیاقت

